استبراء Urdu blog
استبراء پیشاب کے مکمل خشک کرنے
کو کہتے ہیں ۔یہ واجب ہےجس طرح نماز
میں کوئی واجب چھوٹ جاۓ تو نماز سجدہ
سہو کے بنا مکمل نہی ہوتی ایسے ہی اگر
پیشاب کرنے کے بعد اس کو مکمل خشک
نہ کیا جاۓ تو طہارت کامل نہیں ہو تی۔وضو
کامل نہیں ۔اوراگروضو کامل نہیں تو نماز
نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا میری امت کے اکثر لوگوں کی عبادتیں
انکی طہارت کیوجہ سے منہ پر دے ماری
جائیں گی ۔اکثر عذاب قبر پیشاب کی بے
احتیاطی کی وجہ سے ہوگا۔
پرانے وقتوں میں لوگ خشک مٹی استعمال
کرتے تھے۔ پیشاب کو خشک کرنے کے لۓ۔
آج کل % 95 فیصدمرد و خواتین بنا خشک
کۓ ہی پیشاب، جلد بازی میں پانی بہا کر
کپڑے پہن لیتے ہیں ۔وہی ناپاک پانی پھرکپڑوں
کو لگتا ہے۔ کیونکہپانی کی ٹوٹی بند کربھی
دیں تو تھوڑے تھوڑےقطرے نکلتے رہتے ہیں۔
کچھ وقت تک۔ یہی حال انسانی جسم کے مثانے
(Urinery Bladder )کا ہے۔پیشاب کی نالی
جو کہ خواتین کی نسبت مردوں میں قدرے
بڑی ہوتی ہے۔ اسکے اندر کچھ قطرے رہ
جاتے ہیں ۔جیسے ہی مرد یا عورت کھڑے
ہوتے ہیں تو Pelvic Muscles ریلیکس
ہوتے ہیں اور پیشاب کے قطرے جو نالی
میں تھے باہر کیطرف آتے ہیں، لہٰذا جلد
بازی نہ کریں، فوراً کھڑے نہ ہوں، اس بات
کا یقین کر لیں کے آپ کا مثانہ مکمل طور
پر خالی ہو چکا ہے۔
نالی میں پھنسے قطرے نکالنے کے لۓ
مصنوعی طور پرجان بوجھ کر کھانسی کریں ۔
اس سے مسلز ریلیکس ہوں گے اور بائیں
پاوں پرزور دیں دو سے تین دفعہ، پھر ٹشو
سےپیشاب خشک کر کے پانی استعمال
کریں پھر دوبارہ ٹشو استعمال کر لیں تو
بہتر، نہ کریں تو کوئی بات نہیں اب جو
پانی کپڑے کو لگےگا وہ ناپاک نہیں ہوگا۔
ہم سب کم وقت اور جلد بازی اسی
معاملے میں کرتے ہیں، جو بنیاد
روح کی پاکیزگی کی قلب کے سکون
کی۔ پھر کہاں سے عبادتوں میں لذت
اور سکون آئے جب طہارت ھی مکمل
نہ ہو تو۔آج کے دور میں خشک مٹی
کی جگہ سوفٹ ٹشو استعمال کیا
جا سکتا ہے۔ لیکن یاد رہے پانی کا
استعمال لازمی ہے صرف ٹشو سے
خشک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے
أن اللّه يُحب المتطهرين
بے شک اللہ طہارت کرنے والوں
سے محبت کرتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کا ہماری خواتین بچےمرد
عورت سب پریشانیوں میں مبتلا ہیں،
جنات شیاطین کے لۓ پیشاب کی بو
اور آمیزش والے پانی کا ایک قطرہ
بھی کافی ہوتا ہے ۔جس پر وہ سارا
دن جادو پڑھ پڑھ انسان کے کانوں
میں پھونکتے ہیں اور اسکی روح اور
دل کو بیقرار رکھتے ہیں، غصہ
حسد بغض ان سب کی جڑ کامل
طہارت کا نہ ہونا ہے۔
