اشاعتیں

sprituality لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حضرت داؤد علیہ السلام اور شیطان David (P.B.U.H) and Devil

تصویر
  ﷲ تعالیٰ نے جب داؤد  علیہ السلام کو خلیفہ  کائنات بنایا تو انہیں  نہایت سریلی اور  خوبصورت آوازعطا  کی۔ آپ علیہ السّلام کے  گلے کو ساز بنایا۔ حتیٰ  کہ وحشی جانور اور  پرندے پہاڑوں اور  جنگلوں سے آپ کی  آواز سننے کے لیے جمع  ہو جاتے، بہتے ہوئے  پانی رک جاتے اور اڑتے  پرندے گر پڑتے۔ حضرت  داؤد علیہ السّلام جس  جنگل میں خوش الحانی  (تلاوت) کرتے وہاں کے  جانور ایک ماہ تک کچھ نہ  کھاتے پیتے، بچے نہ  دودھ مانگتے اور نہ روتے۔  اکثر لوگ آپ علیہ السّلام  کی آواز کی لذت میں فوت  ہو جاتے۔ حتیٰ کہ ایک  روایت کے مطابق 700 نو  خیز لونڈیاں اور بارہ ہزار  بوڑھے مر   گئے  ۔   جب  ﷲ تعالیٰ نے حقیقت  پسندوں  اور خواہش نفس  میں  موسیقی سننے والوں  کو الگ کردیا تو ابلیس کا  حربہ شروع ہو گیا ۔ اس  نے وسوسہ کے  ذریعے  لوگوں کو  بہکانے کا  پروگرام بنایا۔  اسنے اپنے حربوں کو استعمال  کرنے کی  ...

قرآن مجید کا سماع music of Quran

تصویر
  تمام سنی جانے والی باتوں   سے زیادہ اہم، دل کے لئے  مفید، ظاہر و باطن کے لئے  باعثِ ترقی اور کانوں کے لیے لذیذ کلام الٰہی ہے۔ سب  ایمان والوں کو اس کے  سننے کا حکم دیا گیا ہے۔  قرآن کے معجزات میں سے    ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ  طبیعت اسکے پڑھنے اور  سننے سے بےچین نہیں  ہوتی کیونکہ اس میں بہت  زیادہ رقت موجود ہے۔    حتی کہ کفار رات کو  چھپ کر حضور اکرم  ﷺ  کی نماز میں قرات اور  تلاوت  کو سنتے تھے اور    قرآن کی لطافت اور رقت  پر حیران ہوتے تھے۔ ایک  رات حضورﷺ     کی  تلاوت سن کر عتبہ بے  ہوش ہوگیا اور بعد میں  ابو جہل کو بتایا کہ یہ  انسانی کلام معلوم نہیں ہوتا۔ جنوں نے گروہ در گروہ   ہو کر رسول اکرم  ﷺ  سے قرآن سنا اور کہنے لگے  کہ اَنّا سَمِعنا قرانا عجباً  ہم نے عجیب کلام پڑھتے  ہوئے سنا۔ یہ جملہ انہوں  نے واپس جاکر اپنے  دوسرے جنوں کو سنایا۔  

wahdat al-wajood عقیدہ وحدت الوجود‎

تصویر
  وحدت الوجود دراصل صوفیاء کرام کی ایک اصطلاح ہے جس  کا تعلق خواص سے ہے، عوام  سے نہیں ۔ صوفیاء نے جب ﷲ  تعالیٰ کی ذاتِ میں غور وفکر  کیا تو انہیں ﷲ کے سوا ہر چیز  فانی اور ایک دن ختم ہو جانے  والی نظر آئی ۔ حتیٰ کہ انہیں  خود اپنا وجود بھی مٹنے والا ، حادث اورممکن نظر آیا۔انہیں  یہ   حقیقت معلوم ہوئی کہ کائنات   اور اس میں پائی جانے والی ساری  مخلوق ﷲ تعالیٰ کے خلق اور  امر سے وجود میں آئی ہےاور  اسکی حیثیت ممکن کی ہے۔     جبکہ اصل ذات توصرف ﷲ تعالیٰ کی ہی ہے جو قدیم اور   واجب الوجود ہے۔  بے شک وہ ﷲ  ﷻ  کی ذات ہے۔ "وحدت الوجود" اور  وحدت الموجود" میں واضح"  فرق ہے۔ وحدت الموجود یہ  ہےکہ حق تعالیٰ اورعالم دونوں  ایک ہو گئے، یہ صریحاً کفر  ہے اور صوفیاء اس نظریہ  کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔

جبل قاسیون (مقدس پہاڑ) Jabal Qasiun

تصویر
  " قاسیون "پہاڑ دمشق کے نزدیک  واقع ہے۔ یہ پہاڑ قدیم دور ہی  سے کئی طرح کے قصے اور  کہانیوں کی وجہ سے کافی  شہرت رکھتا ہے۔ ایک قدیم  روایت ہے کہ سب سے پہلے  انسان "حضرت  آدم علیہ السّلام " کی رہائش اسی پہاڑ پر تھی۔  اسی پہاڑ کی ڈھلوان پر ایک  غار میں آدم علیہ السّلام کے  بیٹوں "ہابیل " اور "قابیل"  کے درمیان جھگڑے پر " قابیل" نے اپنے بھائی  "ہابیل "کو بڑا پتھر مار کر  ہلاک کر دیا تھا۔جہاں آج بھی  ایک چٹان پر خون کے نشان  موجود ہیں۔ "ہابیل" کی بعد  میں ایک نزدیکی پہاڑ پر  تدفین کی گئی۔ اس غار کو آج بھی  "خون والا غار"  کہتے ہیں۔ پہاڑ کی اسی  ڈھلوان پر تھوڑی دور ایک  اور غار ہے جسے" 40ابدالوں  کی غار" کے نام سے جانا  جاتا ہے۔ایک عقیدے کے  مطابق یہاں ہر روز مغرب  کے بعد 40 ابدال اکٹھے ہو  کر عبادت کرتے ہیں۔ اس  غار کے اوپر ایک چھوٹی  سی مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔  اسی غار کو "بھوک والی  غار" بھی کہا جاتا ہے۔ ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ  یہاں...

"خون کاغار" Cave of Blood

تصویر
 خون والا غار کے نام  سے مشہور یہ غار  "دمشق" (شام) شہر کے  قریب مشہور "قاسیون"  پہاڑ پر واقع ہے۔ قدیم  تاریخی روایات کے مطابق  حضرت آدم علیہ السلام  کی رہائش اسی پہاڑ پر تھی۔  اس غار کو"خون کا غار"  اس لیےکہا جاتا ہے کہ اس  غارمیں آدم علیہ السّلام کے  بیٹوں "ہابیل" اور "قابیل"  کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا۔  جس پر قابیل نے اپنے بھائی  ہابیل کو ایک بڑا پتھر  اٹھا کر مارا جس سے  ہابیل کی موت ہو گئی ۔  یوں یہ آدم علیہ السّلام کی  اولاد میں پہلا قتل اور موت  تھی جو قابیل کے ہاتھوں  اپنے ہی بھائی کی ہوئی  تھی ۔ اس غار میں آج بھی  ایک چٹان پر خون کا نشان  موجود ہے۔ اسی وجہ سے  اسے" خون والا غار" کہا  جاتا ہے۔ بعد میں ہابیل علیہ السلام کی تد فین ایک نزدیکی  پہاڑ پر کی گئی۔   اس غارمیں ہاتھ کی انگلیوں   کے بہت بڑے سائز کے نشان  بھی موجود ہیں جن کے  بارے میں کہا جاتا ہے کہ  یہ حضرت جبرائیل امین  علیہ السلام کی انگلیوں کے  نشان ہیں۔...

تعارف,ابن العربی Ibn-ul-Arabi

تصویر
   نظریہ "وحدت الوجود "  کے بانی "شیخ ابن العر بی "  ہیں ۔ "شیخ اکبر ابن العربی"   کا پورا نام محمد بن علی بن   محمد ابن العربي الطائی   الحاتمی الاند لسی تھا ۔ مشرق   وا لے آپ کو" ابن ا لعربی "  کہتے ہیں۔ آپ کی سب سے   زیادہ شہرت "اشیخ الاکبر"   کے لقب سے ہوئی اور   مسلمانوں کی تاریخ میں یہ   لقب کسی دوسری شخصیت   کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ۔  آپ اند لس کے شہر "مرسیہ" میں 27 رمضان المبارک 560ھ  مطابق 1165 ء کو ایک معزز  عرب خاندان میں پیدا ہوئے ،  جو مشہور زمانہ  سخی " حاتم طائی"  کے بھائی کی  نسل سے تھا ۔ آپ کے والد " مرسیہ" کے ہسپانوی الاصل  حاکم "محمد بن سعید مرذنیش " کے دربار سے  منسلک تھے ۔ مروّجہ دینی اور دنیاوی تعلیم  کے حصول کے ساتھ ساتھ   بچپن ہی سےآپ کا بہت سا  وقت صو فیاء کی خدمت میں  گزرتا تھا۔ تصوف کا سلسلہ  آپ کے خاندان میں قائم تھا۔  اسی طرح آپ کے ماموں  "ابو مسلم الخولانی" جو ...

مزارات پر لنگر کی اہمیت The facts of eating at shrine

تصویر
  مزارات پر لنگر کی حقیقت  مزارات اولیاء پر نذرو نیاز  دینے اور وہاں لنگر پکانے  یا کھانے کی حقیقت صرف  اتنی ہے کہ یہ ایک نیک عمل  ہے ۔ جس کی اصل قرآن و سنت  میں موجود ہے ۔ یہ صدقہ  جاریہ کی ایک مستحسن صورت  ہے ۔ جس سے اللہ تعالی نے  اپنے محبوب بندوں کو نواز  رکھا ہے ۔ اطعام الطعام تعلیماتِ  قرآن و سنت کی معروف  اصطلاح اور اسلامی تہذیب و  ثقافت کی ایک نمایاں  خصوصیت ہے ۔  سورۃ الدھرمیں اللہ تعالی  نے اپنے محبوب اور مخلص  بندوں کی خصوصیات بیان  فرمائی ہیں ۔ جن میں  ضرورت مندوں اور  ناداروں کو کھانا کھلانا  بنیادی خصوصیت قرار  دیا گیا ،ارشاد باری تعالٰی ہے: "اور کھانا  ﷲﷻ کی محبت میں  خود اس کی طلب و حاجت  ہونے کے باوجود ایثاراًمحتاج  کو یتیم کواور قیدی کو کھلا  دیتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ  ہم تو محض  ﷲﷻ کی رضا کیلئے تمہیں کھلا رہے ہیں ،  نہ تم سے کسی بدلہ کے  خو استگار ہیں اور نہ شکر  گزاری ک...

Theory of Sufism in Islam تصوف

تصویر
   علوم اسلامیہ میں تصوف خاص  اہمیت کا حامل ہے۔اس کی بنیاد  قرآن مجید اور سنت نبوی صلی  اللّٰہ  علیہ وآلہ واصحابہ وبارک  وسلم  ہے۔ یہ تزکیہ نفس،تطہیر  قلب اور اخلاق عالیہ سے بحث  کرتا ہے۔ تصوف ایک فکری  رجحان بھی ہے۔جس میں توحید  کا مفہوم یہ ہے کہ انسان زبانی  کلمہ گو ئی سے بڑھ کر اس  درجہ ترقی کرے کہ اس کے  دیکھنے اور یقین میں یہ واضح  ہو جائے کہ اللّٰہ کےسوا سب  فنا ہے۔صرف اور صرف باقی  اور قائم ذات اللّٰہ تعالیٰ کی ہے۔  تصوف اللّٰہ تعالیٰ سے ملاقات  اور دیکھنے کی شدید آرزواور  خواہش کا نام ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ  سے بغیر کسی غرض کے  تعلق رکھنا تصوف ہے۔

استبراء Urdu blog

تصویر
      استبراء پیشاب کے مکمل خشک کرنے  کو کہتے ہیں ۔یہ واجب ہےجس طرح  نماز  میں کوئی واجب چھوٹ جاۓ تو نماز سجدہ  سہو کے بنا مکمل نہی ہوتی ایسے ہی اگر  پیشاب کرنے کے بعد اس کو مکمل خشک  نہ کیا جاۓ تو  طہارت کامل نہیں  ہو تی۔وضو  کامل نہیں ۔اوراگروضو کامل نہیں تو نماز  نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا میری امت کے اکثر لوگوں کی عبادتیں  انکی طہارت کیوجہ سے منہ پر دے ماری  جائیں گی ۔اکثر عذاب قبر پیشاب کی بے  احتیاطی کی وجہ سے ہوگا۔ پرانے وقتوں میں  لوگ خشک مٹی استعمال  کرتے تھے۔ پیشاب  کو خشک کرنے کے  لۓ۔  آج کل % 95 فیصد مرد و خواتین بنا خشک  کۓ ہی پیشاب،  جلد بازی میں پانی بہا کر  کپڑے پہن لیتے ہیں ۔ وہی ناپاک پانی پھرکپڑوں  کو لگتا ہے۔ کیونکہ پانی کی ٹوٹی بند کربھی  دیں تو تھوڑے  تھوڑےقطرے نکلتے رہتے ہیں۔ کچھ وقت تک۔  یہی حال انسانی جسم کے مثانے (Urinery  Bladder )کا ہے۔پیشاب کی نالی  جو کہ خواتین کی نسبت مردوں ...

حادثات Urdu Blog

تصویر
حادثات دکان /مکان میں آگ  لگنے سے بچنے کا وظیفہ  حضرت طلق  رضی اللہ تعالیٰ  عنہ فرماتے ہیں کہ ایک  شخص حضرت ابوالدرداء   رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت  میں حاضر ہوا اور عرض  کیا کہ آپ کا مکان جل گیا٬  فرمایا نہیں جلا٬ پھر دوسرے  شخص نے یہی اطلاع دی تو  فرمایا نہیں جلا٬ پھر تیسرے  آدمی نے یہی خبر دی٬ آپ نے  فرمایا نہیں جلا٬ پھر ایک اور  شخص نے آکر کہا اے ابودرداء   رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آگ کے  شرارے بہت بلند ہوئے مگر جب  آپ کے مکان تک آگ پہنچی تو  بجھ گئی٬ فرمایا مجھے معلوم تھا  کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا  کہ میرا مکان جل جائےکیونکہ  میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے  جو شخص صبح کے وقت یہ  کلمات پڑھ لے شام تک اس کو  کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی٬  میں نے صبح یہ کلمات پڑھے  تھے اس لئے مجھے یقین تھا کہ  میرا مکان نہیں جل سکتا٬  وہ کلمات یہ ہیں۔  (کنزالعمال ٬ حدیث:  ۴۹۶۰ ٬ صفحہ : ۲۳۸) اَللّھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ  اَنْتَ عَلَ...