اشاعتیں

ارطغرل غازی تاریخی حقائق ( Ertugrul Ghazi ( historical facts

تصویر
عثمانی روایات کے مطابق  ارطغرل سلطنت عثمانیہ کے  بانی عثمان اول کے والد  تھے۔ مستند تاریخ میں ارتغل  کی زندگی کے بارے میں  زیادہ معلومات نہیں ملتی ہیں۔  اس کے بارے میں زیادہ تر  معلومات زبانی طور پر  منتقل کی گئی ہیں۔جیسا کہ  اس کے بارے میں ارطغرل  پر بننے والے ڈرامہ سیریل  "ارطغرل غازی" میں  ارطغرل کا کردار ادا کرنے  والے اداکار "ایجن التان"  کا کہنا ہے کہ ہمارے ذرائع  صرف 7 صفحوں پر مشتمل  ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ میں  دو اور ٹھوس نشانیاں ایک  عثمانی دور کا ایک" سکہ"  اور ایک "بازنطینی مؤرخ "  کی لکھی ہوئی ایک تحریر  ہے۔ تاہم جو بات طے ہے  وہ یہ ہےکہ سلطنت عثمانیہ  کے بانی عثمان اول کا  تعلق آج کے ترکی کے  علاقے اناطولیہ کے ایک  ترک خانہ بدوش قبیلے  سے تھا۔اور اس کی  حکومت اناطولیہ کی  چھوٹی چھوٹی حکومتوں  میں سے ایک تھی۔  جن کی طاقت میں زیادہ  فرق نہیں تھا۔   عثمانی سرکاری روایات  کے مطابق ارطغرل سلطنت   عثمانیہ کے بانی عثمان  اول کے والد تھے۔  روایات کے مطابق  منگولوں کے مظالم سے   بچنے کے لیے قائی نام  کا قبیلہ دیگر دوسرے  ترک قبیلوں کی طرح  غ

Introduction: S - 400 messile system تعارف

تصویر
روس جدید اور  معیاری میزائل  بنانے میں انتہائی مہارت رکھتا  ہے۔ "Triumf  S-400" ایک  روسی" میزائل سسٹم" ہے۔ اسے پہلے "NATO "  کی  طرف سے" گرولر" SA-21  کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔  S- 400  دراصل ایک انتہائی  جدید اور مربوط "دفاعی نظام "  ہے ۔ جس میں ریڈار ,کمانڈ   اور کنٹرول کا نظام اور چار  قسم کے زمین سے فضاء میں  مار کرنے والے میزائل شامل  ہوتے ہیں۔  یہ چاروں اقسام  کے میزائل 40 سے 400 میٹر  کے دائرے میں فضاء میں ہر  اڑتی ہوئی چیز ہوائی جہازوں٬  ڈرونز، میزائلوں جن میں دونوں  قسم کے بیلسٹک میزائل اور  کروز میزائل  شامل ہیں کو نشانہ  بنا سکتا ہے۔ اسے آسانی سے  ایک جگہ سے  دوسری جگہ  گاڑیوں کے  ذریعے منتقل کیا  جاتا ہے۔  یہ" میزائل دفاعی نظام"   مکمل طور پر  خود کار ہے اور ایک ہی وقت میں کئی اہداف کو  نشانہ بناتا ہے۔ اسے روسی دفاعی  کمپنی "الماز" نے تیار کیا ہے ۔  1999 تک اسکے تمام تجربات  کامیابی سے کر لیے گئے تھے۔  جبکہ 2007 میں اسے روسی فوج  کے حوالے کیا گیا۔ اس کے میزائل  4800 m/s  کی رفتار سے اپنے  ہدف کو نشانہ ب

گزر گئی گزران،غم دےسانگ Khawaja Ghulam Farid

تصویر
گزر گئی گزران،غم دےسانگ رَلیو سے ڈٖ ٹْھڑا جُمل جہاں،نہ کُجھ پَلڑے پیو سے اردو ترجمہ: جوں تُوں کر کے عمر گزر  گئی ساری،  بس غموں سے  ہی ہمیشہ رشتہ جڑا رہا۔  گرچہ سارا جہان گھوم پھر کر دیکھ لیاپر حقیقت حال  سے متعلق کچھ پلے نہیں پڑا۔ وِینْد یں یارؐ  نہ  کھڑ   مُکلایا کِیچوں کوئی  پیغام نہ آیا جندڑی        دا      ججمان گٰلْ    دا   گَیْڑ  تھیو    سے اردو ترجمہ: جاتی دفعہ  محبوب ؐ نے کھڑے  کھڑے بھی الوداع نہ کہا۔ کیچ    سے بھی کوئی  پیغام نہیں آ یا۔  جان کا بکھیڑا۔ تو گلے کا  پھندہ بن گیا۔ نہ ماہیؐ نہ رِنگ مِھِْیں دی جھوک اُجاڑ ڈٖ سِے ہُوں ڈٖینھ دی بٖیلا        تھِیا         ویران تھی    بے   آس   رُلْیُو  سے اردو ترجمہ: نہ محبوبؐ کا پتہ ہے نہ بھینسوں  کی للکار سنائی  دیتی ہے۔ ہجر  کے دن سے ہی اپنی آبادی اجاڑ  سی نظر آتی ہے۔ بیابان برباد اور  ویران ہو گیا ہے۔ ہم بے آس و  نا امید بھٹک رہے ہیں۔  

آمِلْ مَاہیﷺ میں مَانْدِی ہاں Khawaja Ghulam Farid

تصویر
آمِلْ  مَاہؐی  میں  مَانْدِی  ہاں بِے وَسْ بِرہوں دی بَانْدِی ہاں اردو ترجمہ: اے میرے محبوبؐ مجھے آن مل کہ میں بہت اُداس  ہوں ۔ بے بس ہوں،اور  عشقؐ کی پابند وغلام ہوں۔ عِشْق اَوِّیڑا دُشمن وِیْڑھَا سَسْ  نِنَانْڑاں کَرنْ بَکِھیْڑا اَمْڑِی جُڑْجُڑْ لاوِے جِھیْڑا بَا بُلْ وِیْر نہ بَھا نْدِی ہاں اردو ترجمہ: اس عشقؐ کی وجہ سے سارا  کنبہ(گھر) میرا دشمن ہو گیا  ہے۔ ساس اور نندیں مجھ  سے لڑ تی جھگڑتی ہیں۔ پیاری ماں تک ہر وقت  طعن اور تشنیع کرتی رہتی  ہے۔اب تو میں باپ اور بھائیوں کو بھی اچھی  نہیں لگتی۔ کِھیڑےْ بَھْیڑے سخت سَتاوِنْ نِیْڑے وَسْدِے مَارَنْڑ آوِنْ سَنْگیاں سُرْ تِیّاں تُہمت لاوِنْ کَلْھڑِی پَئی کُرْ لانْدی ہَاں اردو ترجمہ: ذلیل کھیڑے میرے رقیب  بن کرمجھے سخت ستا  رہے ہیں ۔ ہمسائے بھی  مارنے پیٹنے پرآ جا تے  ہیں۔ سہیلیاں اور ہمجولیاں  بھی تہمتیں لگاتی ہیں۔ بس میں تنہا پڑی آہ وزاری  کرتی رہتی ہوں۔ سِْیجھ سَنْڑ یندی لِبمےلَیْندی گَاٰنْٖہھے گُہْنْڑے،پُھلْ نہ پَیْندِی تُولْ  تَلِینْدِی ، چُوڑ جَلِینْدی رُوْنْدی تےغم کھاندی ہاں اردو ترجمہ: مجھے سجی ہوئی سیج کی  جگہ آگ کے لمبے لمبے شعل

حضرت داؤد علیہ السلام اور شیطان David (P.B.U.H) and Devil

تصویر
  ﷲ تعالیٰ نے جب داؤد  علیہ السلام کو خلیفہ  کائنات بنایا تو انہیں  نہایت سریلی اور  خوبصورت آوازعطا  کی۔ آپ علیہ السّلام کے  گلے کو ساز بنایا۔ حتیٰ  کہ وحشی جانور اور  پرندے پہاڑوں اور  جنگلوں سے آپ کی  آواز سننے کے لیے جمع  ہو جاتے، بہتے ہوئے  پانی رک جاتے اور اڑتے  پرندے گر پڑتے۔ حضرت  داؤد علیہ السّلام جس  جنگل میں خوش الحانی  (تلاوت) کرتے وہاں کے  جانور ایک ماہ تک کچھ نہ  کھاتے پیتے، بچے نہ  دودھ مانگتے اور نہ روتے۔  اکثر لوگ آپ علیہ السّلام  کی آواز کی لذت میں فوت  ہو جاتے۔ حتیٰ کہ ایک  روایت کے مطابق 700 نو  خیز لونڈیاں اور بارہ ہزار  بوڑھے مر   گئے  ۔   جب  ﷲ تعالیٰ نے حقیقت  پسندوں  اور خواہش نفس  میں  موسیقی سننے والوں  کو الگ کردیا تو ابلیس کا  حربہ شروع ہو گیا ۔ اس  نے وسوسہ کے  ذریعے  لوگوں کو  بہکانے کا  پروگرام بنایا۔  اسنے اپنے حربوں کو استعمال  کرنے کی  اجازت مانگی  تو اسے مل گئی ۔اس بنا  پراس  نے بانسری اور طنبورے بنانے۔ اور  حضرت داؤد  علیہ السّلام  کے بالمقابل  محفل سماع  قائم کی ۔  حضرت داؤد علیہ السّلام  کے سننے والے دو  جماعتوں میں  تقسیم ہوگئے  اہل سعادت  حضرت د

قرآن مجید کا سماع music of Quran

تصویر
  تمام سنی جانے والی باتوں   سے زیادہ اہم، دل کے لئے  مفید، ظاہر و باطن کے لئے  باعثِ ترقی اور کانوں کے لیے لذیذ کلام الٰہی ہے۔ سب  ایمان والوں کو اس کے  سننے کا حکم دیا گیا ہے۔  قرآن کے معجزات میں سے    ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ  طبیعت اسکے پڑھنے اور  سننے سے بےچین نہیں  ہوتی کیونکہ اس میں بہت  زیادہ رقت موجود ہے۔    حتی کہ کفار رات کو  چھپ کر حضور اکرم  ﷺ  کی نماز میں قرات اور  تلاوت  کو سنتے تھے اور    قرآن کی لطافت اور رقت  پر حیران ہوتے تھے۔ ایک  رات حضورﷺ     کی  تلاوت سن کر عتبہ بے  ہوش ہوگیا اور بعد میں  ابو جہل کو بتایا کہ یہ  انسانی کلام معلوم نہیں ہوتا۔ جنوں نے گروہ در گروہ   ہو کر رسول اکرم  ﷺ  سے قرآن سنا اور کہنے لگے  کہ اَنّا سَمِعنا قرانا عجباً  ہم نے عجیب کلام پڑھتے  ہوئے سنا۔ یہ جملہ انہوں  نے واپس جاکر اپنے  دوسرے جنوں کو سنایا۔  

wahdat al-wajood عقیدہ وحدت الوجود‎

تصویر
  وحدت الوجود دراصل صوفیاء کرام کی ایک اصطلاح ہے جس  کا تعلق خواص سے ہے، عوام  سے نہیں ۔ صوفیاء نے جب ﷲ  تعالیٰ کی ذاتِ میں غور وفکر  کیا تو انہیں ﷲ کے سوا ہر چیز  فانی اور ایک دن ختم ہو جانے  والی نظر آئی ۔ حتیٰ کہ انہیں  خود اپنا وجود بھی مٹنے والا ، حادث اورممکن نظر آیا۔انہیں  یہ   حقیقت معلوم ہوئی کہ کائنات   اور اس میں پائی جانے والی ساری  مخلوق ﷲ تعالیٰ کے خلق اور  امر سے وجود میں آئی ہےاور  اسکی حیثیت ممکن کی ہے۔     جبکہ اصل ذات توصرف ﷲ تعالیٰ کی ہی ہے جو قدیم اور   واجب الوجود ہے۔  بے شک وہ ﷲ  ﷻ  کی ذات ہے۔ "وحدت الوجود" اور  وحدت الموجود" میں واضح"  فرق ہے۔ وحدت الموجود یہ  ہےکہ حق تعالیٰ اورعالم دونوں  ایک ہو گئے، یہ صریحاً کفر  ہے اور صوفیاء اس نظریہ  کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔

جبل قاسیون (مقدس پہاڑ) Jabal Qasiun

تصویر
  " قاسیون "پہاڑ دمشق کے نزدیک  واقع ہے۔ یہ پہاڑ قدیم دور ہی  سے کئی طرح کے قصے اور  کہانیوں کی وجہ سے کافی  شہرت رکھتا ہے۔ ایک قدیم  روایت ہے کہ سب سے پہلے  انسان "حضرت  آدم علیہ السّلام " کی رہائش اسی پہاڑ پر تھی۔  اسی پہاڑ کی ڈھلوان پر ایک  غار میں آدم علیہ السّلام کے  بیٹوں "ہابیل " اور "قابیل"  کے درمیان جھگڑے پر " قابیل" نے اپنے بھائی  "ہابیل "کو بڑا پتھر مار کر  ہلاک کر دیا تھا۔جہاں آج بھی  ایک چٹان پر خون کے نشان  موجود ہیں۔ "ہابیل" کی بعد  میں ایک نزدیکی پہاڑ پر  تدفین کی گئی۔ اس غار کو آج بھی  "خون والا غار"  کہتے ہیں۔ پہاڑ کی اسی  ڈھلوان پر تھوڑی دور ایک  اور غار ہے جسے" 40ابدالوں  کی غار" کے نام سے جانا  جاتا ہے۔ایک عقیدے کے  مطابق یہاں ہر روز مغرب  کے بعد 40 ابدال اکٹھے ہو  کر عبادت کرتے ہیں۔ اس  غار کے اوپر ایک چھوٹی  سی مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔  اسی غار کو "بھوک والی  غار" بھی کہا جاتا ہے۔ ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ  یہاں 40 ابدالوں کی بھوک  سے موت ہوئی تھی۔ جبکہ  ایک دوسرے عقیدے

"خون کاغار" Cave of Blood

تصویر
 خون والا غار کے نام  سے مشہور یہ غار  "دمشق" (شام) شہر کے  قریب مشہور "قاسیون"  پہاڑ پر واقع ہے۔ قدیم  تاریخی روایات کے مطابق  حضرت آدم علیہ السلام  کی رہائش اسی پہاڑ پر تھی۔  اس غار کو"خون کا غار"  اس لیےکہا جاتا ہے کہ اس  غارمیں آدم علیہ السّلام کے  بیٹوں "ہابیل" اور "قابیل"  کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا۔  جس پر قابیل نے اپنے بھائی  ہابیل کو ایک بڑا پتھر  اٹھا کر مارا جس سے  ہابیل کی موت ہو گئی ۔  یوں یہ آدم علیہ السّلام کی  اولاد میں پہلا قتل اور موت  تھی جو قابیل کے ہاتھوں  اپنے ہی بھائی کی ہوئی  تھی ۔ اس غار میں آج بھی  ایک چٹان پر خون کا نشان  موجود ہے۔ اسی وجہ سے  اسے" خون والا غار" کہا  جاتا ہے۔ بعد میں ہابیل علیہ السلام کی تد فین ایک نزدیکی  پہاڑ پر کی گئی۔   اس غارمیں ہاتھ کی انگلیوں   کے بہت بڑے سائز کے نشان  بھی موجود ہیں جن کے  بارے میں کہا جاتا ہے کہ  یہ حضرت جبرائیل امین  علیہ السلام کی انگلیوں کے  نشان ہیں۔ اس غار کو قدیم  زمانے ہی سے دعاؤں کی  قبولیت والا غار بھی کہا  جاتا ہے۔ قدیم زمانہ ہی سے  "دمشق" ک